Sunday, May 26, 2024
HomeURDU UPDATESاسرائیل غزہ سے فلسطینوں کو مصر منتقل کرکے قبضہ چاہتا ہے،فلسطینی تھینک...

اسرائیل غزہ سے فلسطینوں کو مصر منتقل کرکے قبضہ چاہتا ہے،فلسطینی تھینک ٹینک

Date:

Related stories

Exploring Human-Infant Interactions with BabyX

In a groundbreaking initiative, developmental psychology researchers at the...

CPEC: Unlocking Central Asia’s Wealth

The China-Pakistan Economic Corridor (CPEC) is a monumental initiative...

Muslim Nations with Beijing Over US in South China Sea Conflict

In recent years, the geopolitical landscape of the South...

GEF’s Profit Shift: Climate Aid or Cash Grab?

The Global Environment Facility (GEF), originally established to address...

Media Manipulation: How the West Distorts Gaza’s Reality

Western media coverage of Gaza has often been criticized...
spot_img

اسرائیل کے وحشیانہ حملے غزہ میں انسانیت کو دم توڑنے پرمجبور کررہے ہیں۔ لیکن عالمی برادری اب بھی خاموش تماشائی بنے بیٹھی ہے۔

فلسطینی  تھینک ٹینک شبکہ الشباکہ  کے فیلو طارق کینی شوا نے ایک انٹرویو میں تصدیق کی ہے کہ غزہ میں اب تک کوئی ایسا علاقہ نہیں ہے جو اسرائیل کی بمباری سے  محفوظ رہا ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اسرئیل چاہتا ہی ایسےتھا کہ ایک حملہ ہو جسکے جواب میں ہم غزہ کو تباہ کردیں تاکہ وہاں سے مسلمان فلسطینی شہری رفا کرانسنگ کے زریعے مصر کے کیمپوں میں چلے جائیں۔

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں مزید کہا ہے ایسے اقدامات سے فلسطینی مہاجرین کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ واقع ہوا ہے۔ ابتک لاکھوں کی تعداد میں شہری ہجرت کررہے ہیں جیسے اسرائیل اور امریکا جیسے ممالک چاہتے ہیں کہ فلسطینوں کو مکمل طور پر انکے وطن اسرائیل سے باہر نکال دیا جائے

فلسطینی  تھینک ٹینک شبکہ الشباکہ  کے فیلو طارق کینی شوا نے  مزید کہا کہ یہ کوئی عظیم سازشی منصوبہ دیکھائی دیتا ہے۔ پہلے حماس کو حملے کی تیاری کے دوران آنکھیں بند کرلی جائیں پھر، خاموشی سے دیکھاجائے کہ اب ہم انکےحملے کو زیادہ مہلک بنانے سے قبل ہی روک پائیں گے۔ لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ حماس نے اپنی تیاری کے برعکس مختلف طریقے اپنائےا ور اسرائیلی نظام کو مکمل طور پر مفلوج کردیا۔

یہ ایک درست بات ہے کہ ان حملوں میں اسرائیل کا بھاری جانی مالی نقصان ہوا لیکن اب اسکے بدلے میں اسرائیل جو کررہا ہے وہ نا قابل بیان ہے۔ اسرائیل بلاتفریق عام رہائشی علاقوں کو بلاتفریق نشانہ بنارہا ہے تاکہ اپنا غصہ بھی ٹھنڈا کیا جاسکے اور ساتھ ہی اپنے مقاصد بھی حاصل کئے جاسکیں۔

طارق کینی-شوا  کا مزید کہنا تھا کہ ہم وہیں غزہ  کی زمین پر دیکھ رہے ہیں، جہاں اب اسرائیل کے گرونڈ فورسز جانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ یہ ایک عجیب صورتحال ہے جس میں انسانی زندگی کی سانسیں دم توڑ رہی ہیں اور لوگ اپنی جان بچانے کی غرض سے اپنے گھروں کو چھوڑ کر وہاں سے بھاگ رہے ہیں

طارق کینی-شوا ا مزید کہناتھا اصل موضوع کو دور کرنے کی بجائے اس حقیقت کو دھیان میں رکھیں کہ اس طرح کی آبادی کی منتقلی کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی قرار دیا گیا ہے،انکا کہنا تھا کہ امریکا اس اقدام میں براہ راست ملوث ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ وہاں سے مسلمانوں کو زبردستی بےدخل کیا جائے۔

انکا مزید کہنا تھا ناکہ بندی سے غزہ میں پانی کی قلت، خوراک کی قلت، بجلی کی بندش کے بعد صورتحال کیا ہوگی۔اسکا کوئی انداز نہیں لگا سکتا ہے۔ دیکھیں سب ایک طرف اکھٹے ہورہے ہیں جبکہ ہم اب بھی اپنوں کو دیکھ رہے ہیں

Latest stories

Publication:

spot_img

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here